حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ کے امام جمعہ آیت اللہ سید محمد سعیدی نے کہا ہے کہ رہبر معظم انقلاب اسلامی کے انتخاب کے موقع پر مجلس خبرگان نے مکمل آزادانہ انداز میں فیصلہ کیا اور واضح ہوگیا کہ رہبری اور قیادت کے بارے میں ’’موروثی نظام‘‘ کا پروپیگنڈہ حقیقت سے دور ہے۔ انہوں نے عوام اور ذمہ داران پر زور دیا کہ وہ رہبر انقلاب کے فرامین پر عمل اور اسلامی نظام کے تحفظ کے لیے اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھیں۔
قم المقدسہ میں نماز جمعہ کے خطبے سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ سعیدی نے 4 جون، امام خمینیؒ کی برسی اور رہبر شہید انقلاب کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ امام خمینیؒ کی حیات میں ہی قیادت کے مستقبل کے حوالے سے عوام اور حکام میں تشویش پائی جاتی تھی، جس پر امام راحل نے فرمایا تھا کہ ’’تمہارے پاس آیت اللہ خامنہای موجود ہیں‘‘۔
انہوں نے کہا کہ امام خمینیؒ کے وصال کے بعد مجلس خبرگان نے فوری اجلاس منعقد کرکے حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہای کو قیادت کے لیے موزوں ترین شخصیت قرار دیا اور یہ فیصلہ عوام تک تدفین سے پہلے پہنچا دیا گیا تھا۔
آیت اللہ سعیدی نے مزید کہا کہ رہبر شہید انقلاب کی شہادت کے بعد ملک جنگی حالات سے گزر رہا تھا اور دشمن نے مجلس خبرگان کے اجلاس کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی تھی۔ اس حساس مرحلے میں 19 رمضان کی شب مجلس خبرگان کا اجلاس منعقد ہوا، جہاں رہبر معظم انقلاب کے دفتر کے ایک رکن نے امانت داری کے ساتھ بعض نکات پیش کیے، جن سے یہ واضح ہوگیا کہ قیادت کے موروثی ہونے کا الزام مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجلس خبرگان نے آزادانہ فیصلہ کرتے ہوئے حاضر اراکین کی 91 فیصد اکثریت سے حضرت آیت اللہ العظمی سید مجتبی حسینی خامنہای کو اسلامی انقلاب ایران کا تیسرا رہبر منتخب کیا۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے ایرانی عوام، عالم اسلام اور محور مقاومت میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
امام جمعہ قم نے کہا کہ موجودہ حالات میں قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ رہبر معظم انقلاب کے فرامین پر عمل کرے، شہید رہبر کے راستے کو جاری رکھے اور تفرقے سے دور رہے۔ انہوں نے حکام پر بھی زور دیا کہ عوامی مسائل، معیشت، مہنگائی، روزگار، پیداوار اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے مجلس شورائے اسلامی کے یوم تاسیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رہبر معظم انقلاب نے اپنے پیغام میں عوام اور نمائندوں کو مبارکباد دی اور حکومت و پارلیمنٹ کے درمیان ہم آہنگی کو ملکی ترقی کے لیے ضروری قرار دیا۔
آیت اللہ سعیدی نے اپنے خطبے میں ’’زیارت غدیریہ‘‘ کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ صرف ایک زیارت نہیں بلکہ امامت، ولایت اور علوی شناخت کا جامع اعتقادی منشور ہے، جس میں حضرت علی علیہ السلام کی فضیلت، حقانیت اور اسلامی قیادت کو قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے آخر میں قرآن کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حق کی کامیابی اور باطل کی شکست سنت الٰہی ہے، بشرطیکہ اہل ایمان صبر، تقویٰ اور اتحاد کو برقرار رکھیں۔ انہوں نے تاکید کی کہ ایرانی قوم رہبر معظم انقلاب کی قیادت میں دشمن کے دباؤ کے سامنے ہرگز سر تسلیم خم نہیں کرے گی۔









آپ کا تبصرہ